۱۔سیرت نگاری اور اصول روایت و درایت
بسم اللہ الرحمن الرحیم
۱۔سیرت نگاری اور اصول روایت و درایت
۲۔علامہ شبلی کے (۱۱) اصول سیرت نگاری
۲۔سیرت نگاری کا منہج تحقیق(تحقیقی طریقہ کار)
جمع وترتیب : محمد جنید انور
۱۔سیرت نگاری اور اصول روایت و درایت
سیرت نگاری ایک جداگانہ فن ہے جو فن حدیث کی طرح روایت و درایت کے اصولوں پر قائم رہنے کا متقاضی ہے۔ اسی لئے سیرت طیبہ کو تحقیقی انداز میں لکھنے والے سیرت نگاروں کو قدیم سیرت نگاروں سے یہ شکایت رہی ہے کہ انہوں نے سیرت نگاری میں روایت کے ساتھ درایت کے اصولوں کی پوری پابندی نہیں کی ہے جس کے نتیجے میں سیرت طیبہ کے لٹریچر میں ایسی کمزور، مشتبہ اور غلط روایات داخل ہوگئیں ہیں جن سے اسلام اور سیرت طیبہ کی پرشکوہ عمارت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ چنانچہ دور جدید کے بعض سیرت نگاروں نے سیرت نگاری میں اصول روایت و درایت کی اہمیت اور اصولوں کی نشاندہی کی ہے۔ ذیل میں اسے اختصار کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔
قرآن مجید نے روایت کی تحقیق کا اصول خود قائم کردیا ہے۔ سورۃ الحجرات کی آیت نمبر ۶ میں صاف حکم دیا گیا کہ :
یٰا یَّہُاَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اِنْ جَآئَ کُمْ فَاسِقٌم بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْآ اَنْ نتُصِیْبُوْا قَوْمًا بِجَہَالَۃٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰی مََافَعَلْتُمْ تٰدِمِیْنَ O (۱)
اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کرلیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو دانستہ نقصان پہنچا بیٹھوں اور پھر اپنے کئے پر پشیمان ہو۔
جیساکہ پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ علامہ شبلی نعمانی فن روایت کے ضمن میں لکھتے ہیں کہ ’’جو واقعہ بیان کیا جائے اس شخص کی زبان سے بیان کیا جائے جو خود شریک واقعہ تھا اور اگر خود نہ تھا تو شریک واقعہ تک تمام راویوں کا نام بہ ترتیب بتایا جائے۔ اس کے ساتھ یہ بھی تحقیق کیا جائے کہ جو اشخاص سلسلۂ روایت میں آئے کون لوگ تھے؟ کیسے تھے؟ کیا مشاغل تھے؟ چال چلن کیسا تھا؟ حافظہ کیسا تھا؟ سمجھ کیسی تھی؟ ثقہ تھے غیر ثقہ؟ سطحی الذہن تھے یا دقیقہ بین؟ عالم تھے یا جاہل تھے؟ (۲)
محدثین روایت کو پرکھنے کے لئے کچھ شرائط مقرر کرتے ہیں، ان کے نزدیک درج ذیل صورتوں میں روایت اعتبار کے قابل نہ ہوگی اور اس کے متعلق اس تحقیق کی ضرورت نہیں کہ اس کے راوی معتبر ہیں یا نہیں، لیکن بعض کے ہاں چند نکات پر اتفاق نہیں ہے۔ ۱۔ جو روایت عقل کے خلاف ہو، ۲۔ جو روایت اصولِ مسلمہ کے خلاف ہو، ۳۔ محسوسات اور مشاہدے کے خلاف ہو، ۴۔ قرآن مجید یا حدیث متواتر یا اجماعِ قطعی کے خلاف ہو اور اس میں تادیل کی کچھ گنجائش نہ ہو، ۵۔ جس حدیث میں معمولی بات پر سخت عذاب کی دھمکی ہو، ۶۔ معمولی کام پر بہت بڑے انعام کا وعدہ ہو، ۷۔ وہ روایت جو رکیک المعنی ہو مثلاً کدو کو بغیر ذبح کئے نہ کھائو، ۸۔ جو راوی کسی شخص سے ایسی روایت کرتا ہے کہ کسی اور نے نہیں کی اور یہ راوی اس شخص سے نہ ملا ہو، ۹۔ جو روایت ایسی ہو کہ تمام لوگوں کو اس سے واقف ہونے کی ضرورت ہو باایں ہمہ ایک راوی کے سوا کسی اور نے اس کی روایت نہ کی ہو، ۱۰۔ جس روایت میں ایسا قابل اعتنا واقعہ بیان کیا گیا ہو کہ اگر وقوع میں آتا تو سیکڑوں آدمی اس کو روایت کرتے، باوجود اس کے صرف ایک ہی راوی نے اس کی روایت کی ہو۔ (۳)
حکیم عبد الرؤف دانا پوری نے درایت اور عقل کو ایک چیز قرار دینے اور درایت کو اسناد پر ترجیح دینے کی وجہ سے علامہ شبلی نعمانی پر تنقید کی ہے۔ فرماتے ہیں کہ درایت کے معنی عقل نہیں ہے، علم اور تجربے کے بعد جو ملکہ حاصل ہوتا ہے، اُس کو درایت کہتے ہیں۔ محدثین کا مدعا یہ ہے کہ جس شخص کو رسول اللہ ا کی سیرت طیبہ سے پوری واقفیت ہو اور اس بارے میں میں جتنی روایات صحیحہ ہیں، وہ اس کے پیش نظر ہوں، رسول اللہ ا کے فرمانے کے واقعات اور حالات پر عبور رکھتا ہو۔ ایسے شخص کو ایک طرح کی معرفت اور بصیرت حاصل ہو جائے گی۔ اسی کو درایت کہتے ہیں، ایسے شخص کے سامنے جب کوئی روایت آئے گی، اور اس کی سند نہ معلوم ہو تو وہ اپنی اسی بصیرت کی بنا پر کہہ سکے گا کہ یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہوسکتی ہے یا نہیں۔ (۴)
قرآن مجید نے درایت کا اصول بھی قائم کردیا ہے۔ علامہ شبلی اس کی وضاحت ان دلائل کے ساتھ کرتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ پر جب منافقین نے تہمت لگائی تو اس طرح اس خبر کو مشہور کردیا کہ بعض صحابہؓ تک مغالطے میں آگئے۔ چنانچہ صحیح بخاری اور مسلم میں ہے کہ حضرت حسانؓ بھی قاذفین میں شریک تھے، اور اسی بناء پر حد قذف جاری کی گئی۔ قرآن مجیدمیں اس کی تصریح یوں ہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ جَآءوْا بِالْاِفْکِ عُصْبَۃٌ مِّنْکُم ـ (۵)
جو لوگ یہ بہتان گھڑ لائے ہیں وہ تمہارے ہی اندر کا ایک ٹولہ ہے۔
اس پر قرآن مجید کی جو آیات حضرت عائشہؓ کی برأت اور طہارت کے متعلق نازل ہوئیں اُن میں سے ایک سورۃ النور کی آیت نمبر ۱۶ ہے جس میں فرمایا گیا :
وَ لَوْلَآ اِذْسَمِعْتُمُوْہُ قُلْتُمْ مَّایَکُوْنُ لَنَآ اَنْ نَّتَکَلَّمَ بِہٰذَاق سُبْحٰنَکَ ہٰذَا بُہْتَانٌ عَِظِیْمٌ O ((۶)
اور جب تم نے سنا تو یہ کیوں نہ کہہ دیا کہ ہمیں ایسی بات زبان سے نکالنا زیب نہیں دیتا، سبحان اللہ، یہ تو ایک بہتان عظیم ہے۔
عام اصول کی بنا پر اس خبر کی تحقیق کا یہ طریقہ تھا کہ پہلے راویوں کے نام دریافت کئے جاتے، پھر دیکھا جاتا وہ ثقہ اور صحیح الروایہ ہیں یا نہیں؟ پھر ان کی شہادت لی جاتی۔ لیکن خدا نے اس آیت میں فرمایا کہ سننے کے ساتھ تم نے کیوں نہ کہہ دیا کہ یہ بہتان ہے۔ اس سے قطعاً ثابت ہوتا ہے کہ اس قسم کا خلافِ قیاس جو واقعہ بیان کیا جائے قطعاً سمجھ لینا چاہئے کہ غلط ہے۔ (۷)
مولانا شبلی نعمانی نے سیرت نگاری میں اصول روایت اور درایت کی اہمیت کو ثابت کرنے کے لئے تفصیلی دلائل دیئے ہیں جنہیں اختصار سے پیش کیا جاتا ہے۔ فرماتے ہیں کہ سیرت کا ذخیرہ کتب حدیث کا ہم پلہ نہیں البتہ اُن میں سے تحقیق و تنقید کے معیار پر جو اتر جائے وہ حجت اور استناد کے قابل ہے …… سیرت کی کتابوں کی کم پائیگی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ تحقیق و تنقید کی ضرورت احادیث احکام کے ساتھ مخصوص کردی گئی یعنی وہ روایتیں تنقید کی زیادہ محتاج ہیں جن سے شرعی احکام ثابت ہوتے ہیں۔ باقی جو روایتیں سیرت اور فضائل وغیرہ سے متعلق ہیں اُن میں تشدد اور احتیاط کی چنداں حاجت نہیں …… مناقب اور فضائل اعمال میں کثرت سے ضعیف روایتیں شائع ہوگئیں اور بڑے بڑے علما نے اپنی کتابوں میں ان روایتوں کا درج کرنا جائز رکھا …… غور کرو ابو نعیم، خطیب بغدادی، ابن عساکر، حافظ عبد الغنی وغیرہ حدیث اور روایت کے امام تھے۔ باوجود اس کے یہ لوگ خلفا اور صحابہ کے فضائل میں ضعیف حدیثیں بے تکلف روایت کرتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ خیال عام طور پر پھیل گیا تھا کہ صرف حلال و حرام کی حدیثوں میں احتیاط اور تشدد کی ضرورت ہے ان کے سوا اور روایتوں میں سلسلۂ سند نقل کردینا کافی ہے، تنقید اور تحقیق کی ضرورت نہیں ہے …… اس موقع پر ایک خاص نقطہ لحاظ کے قابل ہے یہ مسلم ہے کہ حدیث و روایت میں امام بخاری اور مسلم سے بڑھ کر کوئی شخص کامل فن نہیں پیدا ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کو جو عقیدت اور خلوص اور شیفتگی تھی اس کے لحاظ سے وہ تمام محدثین پر ممتاز تھے۔ باوجود اس کے فضائل و مناقب کے متعلق جس قسم کی مبالغہ آمیز روایتیں بیہقی، ابو نعیم، بزار، طبرانی وغیرہ میں پائی جاتی ہیں بخاری اور مسلم میں ان کا پتہ نہیں لگتا بلکہ اس قسم کی حدیثیں جو نسائی، ابن ماجہ، ترمذی وغیرہ میں پائی جاتی ہیں صحیحین میں وہ بھی مذکور نہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جس قدر تحقیق و تنقید کا درجہ بڑھتا جاتا ہے مبالغہ آمیز روایتیں گھٹتی جاتی ہیں …… سیرت پر جو کتابیں لکھی گئیں وہ زیادہ تر اسی قسم کی کتابوں (طبرانی، بیہقی، ابو نعیم وغیرہ) سے ماخوذ ہیں۔ اس لئے ان میں کثرت سے کمزور روایتیں درج ہوگئیں اور اسی بنا پر محدثین کو کہنا پڑا کہ سیر میں ہر قسم کی روایتیں ہوتی ہیں …… محدثین نے جو اصول قرار دیئے تھے سیرت کی روایتوں میں لوگوں نے اکثر نظر انداز کردیئے، نہایت تعجب انگیز بات یہ ہے کہ جن بڑے بڑے نامور مصنفین مثلاً امام طبری وغیرہ نے سیرت پر جو کچھ لکھا اس میں اکثر جگہ مستند احادیث کی کتابوں سے کام نہیں لیا (…… یہ ممکن نہیں ہے کیونکہ امام طبری ۲۲۴ھ میں پیدا ہوئے اور صحاح ستہ مدون ہوچکی تھیں)، مصنفین سیرت میں سے بعض لوگوں نے اس نکتے کو سمجھا اور جب احادیث کی زیادہ چھان بین کی تو ان کو تسلیم کرنا پڑا کہ سیرت کی کتابوں میں بہت سی روایتیں صحیح حدیثوں کے خلاف درج ہوگئی ہیں، لیکن چونکہ ان کی تصنیف پھیل چکی تھی اس لئے اس کی اصلاح نہ ہوسکی …… سیرت میں اگلوں نے جو کتابیں لکھیں، ان سے مابعد کے لوگوں نے جو روایتیں نقل کیں انہیں کے نام سے کیں، ان کے مستند ہونے کی بناء پر لوگوں نے ان تمام روایتوں کو معتبر سمجھ لیا اور چونکہ اصل کتابیں ہر شخص کے ہاتھ نہیں آسکتی تھیں، اس لئے لوگ راویوں کا پتہ نہ لگا سکے اور رفتہ رفتہ یہ روایتیں تمام کتابوں میں داخل ہوگئیں …… روایت کے متعلق جو اصول منضبط ہوئے صحابہؓ کے متعلق بعض بعض موقعوں پر کام نہیں لیا گیا …… اختلاف مراتب کی بنیاد پر بڑے بڑے معرکۃ الآراء مسائل کی بنیاد قائم ہے مثلاً دو روایتوں میں تعارض پیش آجائے تو اس بحث کے فیصلے میں صحیح طریقہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ایک روایت کے راویوں کا دوسری روایت کے راویوں سے عالی رتبہ ہونا ثابت کردیا جائے (گو دونوں راوی ثقہ ہیں) اور یہ اس روایت کی ترجیح کا قطعی ذریعہ ہوگا …… لیکن صحابہؓ میں آکر یہ اصول بیکار ہوجاتا ہے …… ارباب سیر اکثر واقعات کے اسباب وعلل سے بحث نہیں کرتے نہ ان کی تلاش و تحقیق کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، اگر چہ اس میں شبہہ نہیں کہ اس باب میں یورپ کا طریقہ نہایت معتدل ہے …… سب سے اہم اور سب سے زیادہ قابل بحث یہ بات ہے کہ راوی جو واقعہ بیان کرتا ہے اس میں کسی قدر حصہ اصل واقعہ ہے اور کسی قدر راوی کا قیاس ہے۔ تفحص اور استقرا سے بعض جگہ یہ نظر آتا ہے کہ راوی جس چیز کو واقعے کی حیثیت سے بیان کرتا ہے وہ اس کا قیاس ہے واقعہ نہیں، اس کی بہت سے مثالیںسیرت میں موجود ہیں …… فن تاریخ و راویت پر جو خارجی اسباب اثر کرتے ہیں ان میں سب سے بڑا قوی اثر حکومت کا ہوتا ہے …… اس کا پہلا نتیجہ یہ تھا کہ سیرت کا نام مغازی رکھا گیا۔ جس طرح سلاطین کی تاریخیں جنگ نامہ و شاہ نامہ کے نام سے لکھی جاتی ہیں، چنانچہ سیرت کی ابتدائی تصنیف مثلاً سیرت موسیٰ بن عقبہ اور سیرت ابن اسحاق مغازی ہی کے نام سے مشہور ہیں، ان کتابوں کی ترتیب یہ ہے کہ سلاطین کی تاریخ کی طرح سنین کو عنوان بناتے ہیں اور اسی ترتیب سے حالات لکھتے ہیں۔ یہ حالات جنگی تمام تر جنگی معر کے ہوتے ہیں اور غزوات ہی کے عنوان سے داستانیں شروع کی جاتی ہیں، یہ طریقہ اگر چہ سلطنت و حکومت کی تاریخ کے لئے بھی صحیح نہ تھا لیکن نبوت کی سوانح نگاری کے لئے تو ناموزوں ہے۔ (۸)
سیرت نگاری میں قیاس و درایت کے حوالے سے مولانا شبلی نعمانی فرماتے ہیں کہ ’’نہایت مہتم بالشان بحث یہ ہے کہ کوئی روایت اگر عقل یا مسلمات یا دیگر قرائن صحیحہ کے خلاف ہو تو آیا صرف اس بنا پر واجب التسلیم ہوگی یا نہیں کہ رواۃ ثقہ ہیں اور سلسلۂ سند متصل ہے؟ علامہ ابن جوزی نے اگر چہ لکھا ہے کہ جو حدیث عقل کے خلاف ہو اس کے رواۃ کی جرح و تعدیل کی ضرورت نہیں، لیکن اس سے اصل بحث کا فیصلہ نہیں ہوتا۔ عقل کا لفظ ایک غیر مشخص لفظ ہے۔ حامیان روایت لکھتے ہیں کہ اگر اس لفظ کو وسعت دے دی گئی تو ہر شخص جس روایت سے چاہے گا انکار کر دے گا یہ میرے نزدیک عقل کے خلاف ہے، حقیقت یہ ہے کہ اس بحث کا قطعی فیصلہ کرنا مشکل ہے، عام خیال یہ ہے کہ جس روایت کے رواۃ ثقہ اور مستند ہوں اور سلسلۂ روایت کہیں سے منقطع نہ ہو وہ باوجود خلاف عقل ہونے کے انکار کے قابل نہیں …… ان کے مقابلے میں ایک دوسرا گروہ ہے جو دلائل عقلی اور قرائن حالی کی بنا پر بعض حدیثوں کے تسلیم کرنے میں تامل کرتا ہے، اور یہ طریقہ خود صحابہ کرامؓ کے عہد میں شروع ہوگیا تھا اور محدثین کے اخیر دور تک قائم رہا …… صحابہؓ کے بعد محدثین میں ایک ایسا گروہ موجود رہا، جو عقلی یا نقلی وجوہ کی بناء پر بعض روایات کے تسلیم کرنے میں تامل کرتا تھا گو ان کے رواۃ ثقہ اور مستند ہوتے تھے۔ (۹)
۲۔علامہ شبلی کے (۱۱) اصول سیرت نگاری:
اسلامی فن روایت عقل و درایت کی اہمیت اور بلند مقام کو صحابۂ کرامؓ کے طرز عمل اور علمائے نقدِ حدیث کے قواعد و اصول کی روشنی میں مولانا شبلی نعمانی نے درج ذیل نکات میں پیش کیا ہے:
۱۔ سب پہلے واقعہ کی تلاش قرآن مجید میں، پھر احادیث صحیحہ میں، پھر عام احادیث میں کرنی چاہئے، اگر نہ ملے تو روایات سیرت کی طرف توجہ کی جائے۔
۲۔ کتب سیرت محتاج تنقیح ہیں اور ان کی روایات و اسناد کی تنقید لازم ہے۔
۳۔ سیرت کی روایتیں بہ اعتبار پایۂ صحت احادیث کی روایتوں سے فروتر ہیں۔ اس لئے بصورت اختلاف احادیث کی روایات کو ہمیشہ ترجیح دی جائے گی۔
۴۔ بصورتِ اختلاف روایات احادیث، رواۃ ارباب فقہ و ہوش کی روایات کو دوسروں پر ترجیح ہوگی۔
۵۔ سیرت کے واقعات میں سلسلۂ علت و معلول کی تلاش نہایت ضروری ہے۔
۶۔ نوعیت واقعہ کے لحاظ سے شہادت کا معیار قائم کرنا چاہئے۔
۷۔ روایت میں اصل واقعہ کس قدر ہے؟ اور راوی کی ذاتی، رائے و فہم کا کس قدر جز شامل ہے؟
۸۔ اسباب خارجی کا کس قدر اثر ہے؟
۹۔ جو روایت عام وجوہ عقلی، مشاہدئہ عام، اصولِ مسلمہ اور قرائن حال کے خلاف ہوگی لائق حجت نہ ہوگی۔
۱۰۔ اہم موضوع پر مختلف روایات کی تطبیق و جمع سے اس کی تسلی کرلینی چاہئے کہ راوی سے ادائے مفہوم میں تو غلطی نہیں ہوئی ہے۔
۱۱۔ روایاتِ احادیث کو موضوع کی اہمیت اور قرائن حال کی مطابقت کے لحاظ سے قبول کرنا چاہئے۔ (۱۰)
سیرت نگاری میں اصول روایت و درایت کی اہمیت کے حوالے سے سر سید احمد خان فرماتے ہیں:
تمام محدثین نے جن کی سعی اور کوشش کا دنیا پر بہت بڑا احسان ہے اپنی اپنی کتابوں میں ان حدیثوں کو بھی بیان کیا ہے جو آنحضرت ا کی زندگی کے حالات سے متعلق ہیں، پس وہی حدیث کی کتابیں ہیں، جن سے کم و بیش آنحضرت ا کی زندگی کے حالات صحیح صحیح دریافت ہوسکتے ہیں اور جن کو معقول طریقہ پر ترتیب دینے سے اور صحیح کو غلط سے تمیز کرنے سے ایک معتبر تذکرہ آپ ا کی زندگی کا جمع ہوسکتا ہے …… باایں ہمہ جس قدر حدیثیں آنحضرت ا کے حالات سے متعلق اُن مشہور حدیث کی کتابوں میں مندرج ہیں وہ اس قابل نہیں ہیں کہ جن کو ہم مثل کتاب اللہ کے بے غور اور بلا تحقیقات اندھا دھوندی سے مان لیں، بلکہ ہم پر واجب ہے کہ اُن تمام حدیثوں کو خواہ وہ بخاری کی ہو ںیا مسلم کی اور جامع ترمذی کی ہوں یا شمائل ترمذی کی، اُن کے سچا قبول کرنے کے اُن کی سچائی اور صحت تحقیقات اُن اصولوں اور قواعد کے ساتھ کرلیں جو اس کے لئے مقرر ہیں، اگر ہم ایسا نہ کریں گے تو سخت غلطیوں میں پڑیں گے، کیونکہ بے سند حدیث مسلمانوں کے مذہب میں کوئی وقعت اور اعتبار نہیں رکھتی۔ شاہ عبد العزیز صاحب اپنی کتاب تحفہ میں ایک مقام پر لکھتے ہیں ’’حدیث بے سند گوز شتراست‘‘ مگر افسوس ہے کہ بہت ہی کم مصنف ہیں جنہوں نے اُس ضروری اور نہایت ضروری اصول کی پیروی کی ہو۔ (۱۱)
ان حدیث کی کتابوں کے سوا جن کا ابھی ذکر ہوا، اور بہت سی کتابیں ہیں جو خاص آنحضرت ا کے حالات کے لئے لکھی گئی ہیں اور بعض ایسی ہیں جن میں ان کے سوا اور بھی حالات ہیں اور یہ تمام کتابیں عموماً کتب سیر کے نام سے موسوم ہیں، اور جن میں سے کتب مفصلۂ ذیل زیادہ مشہور ہیں۔ ابن اسحاق، ابن ہشام، طبقات اور تاریخ الکبیر المشہور بواقدی، طبری، سیرت شامی، ابو الفدا، مسعودی، مواہب لدنیہ، ان کے سوا عربی اور فارسی زبان میں اور بھی کتابیں ہیں جو انہی سے بنائی گئی ہیں۔ ان کتابوں میں سے پہلی چار کتابیں بہت قدیم ہیں اور باقی بہت پچھلی۔ یہ سب کتابیں تمام سچی اور جھوٹی روایتوں اور صحیح و موضوع حدیثوں کا مختلط مجموعہ ہے جس میں صحیح اور غلط، مشتبہ اور درست اور جھوٹی اور سچی کسی کا کچھ امتیاز نہیں، اور جو کتابیں زیادہ قدیم ہیں ان میں اس قسم کا اختلاط زیادہ ہے۔ قدیم مصنفوں اور اگلے زمانے کے مؤرخوں کو تصنیفات سے زیادہ غرض یہ تھی کہ ہر ایک قسم کی روایتوں اور افواہوں کو جو ان کے زمانہ میں پھیل رہی تھیں ایک جگہ جمع کرلیں اور اس بات کی تحقیقات اور تصحیح کہ کونسی اُن میں کی بالکل صحیح ہے اور کون سی غلط اور کس میں زیادتی یا کمی ہوئی ہے اور کسی میں مضمون کے سمجھنے اور واقعے کے بیان میں غلط فہمی ہوئی ہے، آئندہ وقت یا آئندہ نسلوں پر منحصر رکھیں، مگر افسوس یہ ہے کہ پچھلی نسلوں نے بعوض اُس کے کہ تحقیقاتِ مطلوبہ کرنے سے اپنے بزرگوں کے مقاصد کی تکمیل کرتے، انہی کتابوں کو اپنی تصنیفات جدید کا ماخذ ٹھہرایا، اور اس لئے اُن پچھلے مصنفوں کی تصنیفوں میں بھی وہی نقص پیدا ہوا جو ان قدیم مصنفوں کی تصنیفوں میں تھا، غرض کہ اب فن سیر کی تمام کتابیں، کیا قدیم کیا جدید، مثل ایسے غلے کے انبار کے ہیں، جس میں کنکر پتھر کوڑا کرکٹ کچھ چنا نہیں گیا، اور ان میں تمام صحیح و موضوع، جھوٹی اور سچی، سند اور بے سند، ضعیف و قوی، مشکوک و مشتبہ روایتیں مخلوط اور گڈمڈ ہیں۔ (۱۲)
سیرت نگاری میں اصول روایت و درایت نہ برتنے کے نتیجے میں اسلام کو جو نقصان پہنچا ہے اس کے حوالے سے محمد حسین ہیکل فرماتے ہیں کہ مغربی اہل قلم جو مسلمانوں کے سیاسی زوال کا سبب اسلام کو بتاتے ہیں، کسی حد تک معذور ہی سہی، اس لئے کہ اُن کی تصانیف کے ماخذ دو قسم کے ہیں:
۱۔ اسلام کے دوست نما دشمنوں کی تصنیفات
۲۔ اسلام کے نادان دوست مسلمانوں کی تصنیفات
دوسری قسم نے خدا کے دین میں وہ باتیں داخل کردیں جنہیں خدا اور اس کا رسول ا کبھی گوارا نہیں کرسکتے۔ اس طائفے کی جسارت کا یہ حال ہے کہ جس کسی نے اُن کے مختر عات سے انکا رکیا اُس کے حق میں کا فری کا حکم صاد ر فرما دیا۔ (۱۳)
اس سے قطع نظر جب ہم آنحضرت ا کی سیرت پر مسلمانوں ہی کی لکھی ہوئی کتابیں پڑھتے ہیں تو ہمارے تعجب کی کوئی حد نہیں رہتی۔ ان اسفار میں بے شمار اسی قسم کی کتابیں ہیں جن میں حضرت محمد ا کے دامن میں وہ کچھ بھر دیا ہے جسے دیکھ کر عقل سمٹ جائے۔ طرفہ یہ کہ اسلام کے ان نادان دوستوں نے ان مخترعات و مزعومات کو اثبات رسالت میں مدد گار سمجھ رکھا ہے۔ حالانکہ ان سے نبوت کی نفی ہونا چاہئے۔ یہی مخترعات اُن مستشرقین کی دستاویزیں ہیں جو اسلام، رسول اکرم ا اور مسلمانوں پر طعن کرنا وظیفۂ استشراق سمجھتے ہیں کاش! وہ ان بے اصل باتوں پر اکتفا نہ کرتے جو نادان مسلمان مصنفوں نے اندھی عقیدت میں سیرت کی کتابوں میں داخل کردی ہیں تو ہمیں اتنا گلہ نہ ہوتا، مگر مغربی اہل قلم نے ان مندرجات کے نوک پلک بنانے میں ایسی فسون کاری سے کام لیا کہ اس پر اصل کا دھوکا ہونے لگا۔ اس پر انہوں نے اپنے انداز تصنیف کو ’’تحقیق جدید‘‘ کا عنوان بخشا جس کا مقتضا یہ تھا کہ جس بحث پر قلم اٹھائے اس کی تنقیح ایسی دقت نظر سے کیجئے جیسے کوئی عادل زیر تفتیش معاملے کی چھان بین کرکے غیر متعلق اجزا کو ایک طرف رکھ دیتا ہے اور اصل متعلقات سے بحث کرتا ہے۔ لیکن مستشرقین کی تحریروں میں اسلام اور بانی ٔاسلام کے متعلق جدل عجیب جوئی اس حد تک صاف دکھائی دے گی۔ وہ اپنا مدعا ایسے پرفریب انداز میں بیان کرتے ہیں جس سے اُن کے یاران طریقت اُسے عین حقیقت سمجھ لیں …… یہ سب کچھ سہی مگر خدائے برترنے طمانیت و سکون خاطر کی دولت ان میں سے بھی چند آزاد فکر مسیحی مصنفوں کے حصے میں لگادی جو اسلام اور اس کے بانی صلوات اللہ علیہ کے بارے میں انصاف سے زیادہ دور نہیں رہے۔ (۱۴)
سیرت نگاری میں احادیث مبارکہ کی جانچ اور پرکھ کے حوالے سے محمد حسین ہیکل، ابن خلدون کا یہ قول نقل فرماتے ہیں کہ ’’مجھے کسی ایسی حدیث یا قول صحابی پر صحت کا یقین نہیں جس میں ظاہر قرآن سے خلاف مترشح ہو اگر چہ اس کے راوی ثقاہت میں معروف ہی کیوں نہ ہوں، اس لئے کہ بعض راوی اپنے ظاہر حال کی وجہ سے ثقہ متصور ہو جاتے ہیں، لیکن ان کا باطن بہتر نہیں ہوتا، اگر سند کے ساتھ متن حدیث کی تنقید کی جائے تو بے شمار متون ایسے ہوں گے جو سند کے اتصال و ثقاہت کے تار پود کو بکھیر دیں گے۔ موضوع حدیث کا معیار یہ ہے کہ وہ مندرجہ ذیل امور میں سے کسی ایک دفعہ کے ضمن میں آسکے ۱۔ ظاہر القرآن کے خلاف ہو، ۲۔ شریعت کے مقررہ قواعد کے خلاف ہو، ۳۔ برہان عقلی کے خلاف ہو، ۴۔ حس و مشاہدے اور ہر انداز کے تعینات کے منافی ہو‘‘۔ حدیث نبی ا کے قبول و رد کا یہی معیار صحیح ہے اور جو حدود ابن خلدون نے متعین کی ہیں انہیں کے اندر جدید علمی تنقید پوری طرح محصور ہے۔ (۱۵)
محمد حسین ہیکل اسی موضوع پر بحث کرتے ہوے وضع حدیث کے محرکات، مناقب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں حدیث سازی کے جذبے، طرف داران بنو اُمیہ اور دوستدران علیؓ کی احادیث مناقبت میں دوڑ، عباسی دور کی روایات میں عدم تنقیح اور خلاف عقل روایات پر دلائل پیش کرتے ہوئے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ، ’’جو شخص خود پر یہ فرض عائد کرنا چاہتا ہے کہ اپنے علم و تحقیق کے ساتھ مخلوق کی خدمت اسلام اور نبی عربی ا کے سوانح پیش کرکے سر انجام دے، اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اس تحقیق کے ساتھ لکھنا چاہئے، جس سے انسان کو رہبری حاصل ہو‘‘۔ (۱۶)
یہی نقطۂ نظر مولانا سید ابو الحسن ندوی کا بھی ہے، فرماتے ہیں کہ ’’عہد حاضر کے سیرت نگار کے لئے بہت ضروری ہے اور اس کا کام اس وقت تک مکمل قرار نہیں دیا جائے گا جب تک اس میں بحث و تحقیق کا سا انداز نہ اختیا رکیا گیا ہو‘‘۔ (۱۷)
مولانا سید عبد القدوس ہاشمی اصول روایت و درایت کے ضمن میں فرماتے ہیں کہ تاریخی روایات کے پرکھنے کا عام عقلی قائدہ یہ ہے کہ ہر روایت کو چار تنقیحات سے گزرنے کے بعد ہی قبول کیا جاسکتا ہے، ۱۔ جو واقعہ بیان کیا جائے اس کے لئے امکان عقلی اور امکان عادی موجود ہو۔ اگر چہ امکان واقعہ دلیلِ واقعہ نہیں مگر دونوں قسم کے امکان کا ہونا ضروری ہے، ۲۔ ظرف زمان و ظرف مکان کے تقاضے واقعے کے خلاف نہ ہوں، ۳۔ یہ دنیا عالم اسباب ہے اس لئے کوئی سابقہ مسلمہ واقعہ ایسا ضروری مل جانا چاہئے جو اس واقعہ کا سبب قرار پاسکے، ۴۔ ہر واقعہ اپنا ایک اثر رکھتا ہے، اس لئے ضروری ہے کہ واقعے کے بعد اس کے اثرات پیدا ہوں، جب ان چار تنقیحات پر کوئی واقعہ ثابت ہو جاتا ہے تو اس کے بعد دیکھا جاتا ہے کہ اس واقعہ تاریخی کا راوی کس درجے کا آدمی ہے، صادق سنجیدہ اور قابل اعتبار راوی ہے یا نہیں اور اس راوی کو اس واقعے کا علم کس طرح حاصل ہوا ہے خود راوی اور اس کے اساتذہ میں دین داری اور دیانت بیان کس قدر پایا جاتا ہے، ان مراحل سے گزرنے کے بعد ہی کسی واقعے کو واقعۂ تاریخی قرار دیا جاسکتا ہے ورنہ رام لیلا اور راس لیلا کی کہا نیوں سے زیادہ اونچا مقام اس روایت کو نہیں مل سکتا۔ (۱۸)
۳۔سیرت نگاری کا منہج تحقیق
سیرت نگاری میں منہج تحقیق معلوم کرنے کے لئے جن منتخب سیرت نگاروں کے مقدمات کا مطالعہ کیا گیا، ان میں چند ہی نے اپنے منہج تحقیق کو بیان کیا ہے۔ حالانکہ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ کسی بھی تالیف کے لئے منہج کا تعین نہ کیا جائے۔ لیکن قدیم اور ماضی قریب کے سیرت نگاروں کے دیباچوں یا مقدمات میں منہج تحقیق کے ذکر نہ کرنے کی وجہ غالباً یہ ہے کہ ان کے زمانے میں موجودہ زمانے کا طریقۂ تصنیف رائج نہ تھا جس میں منہج تحقیق بھی مقدمات میں بیان کیا جاتا ہے، لہذا اسی بنا پر ان سیرت نگاروں نے اپنے منہج تحقیق کو بیان کرنا ضروری نہ جانا، ذیل میں اُن سیرت نگاروں کا ذکر کیا جاتا ہے جنہوں نے اپنے منہج تحقیق کو بیان کیا ہے یا اس کی نشاندہی کی ہے۔
کتاب ’’الخصائص الکبری‘‘ کے مؤلف شیخ جلال الدین سیوطی نے اپنی تالیف میں جس منہج کو بیان کیا ہے وہ یہ کہ احادیث کو معتبر اسانید سے نقل کیا ہے، رد کی جانے والی احادیث اور اخبار موضوعہ کو نہیں لکھا، ضعیف احادیث کا ضعیف سند، دیگر شواہد اور طرق متعددہ سے دور ہو جانے والی احادیث کو بہت سے اقسام سے ترتیب دیا ہے۔ (۱۹)
کتاب ’’معارج النبوۃ فی مراج الفتوۃ‘‘ کے مؤلف ملامعین واعظ الہروی نے اس کتاب کی تالیف کے لئے جس منہج کو اختیار کیا ہے اس کا ذکر مقدمے میں کیا ہے، انہوں ایک عرصہ تک احادیث کی کتابوں کا مطالعہ کیا، تاریخ کی کتابوں کا مطالعہ کیا، مستند روایات و اسانید کو جانچا اور پرکھا، نفیس کلام اور اعلیٰ علمی نکات جمع کئے۔ تفسیر قرآن کا ایک مسوّدہ ’’اربعین مسمی بہ روضۃ الواعظین فی احادیث سید المرسلین ا‘‘ کی چار جلدیں اور اچھی اچھی حکایتیں، مجالس میں سنانے والے قصے، اور ذکر و اذکار کے مجموعے جمع کئے۔ اپنی پچاس مجالس اذکار بیان کو جمع کیا اور وقت کے متبحر علماے کرام سے ان کی تائید و موافقت کرائی، دلائل اور حقائق کو جمع کیا اور تحقیق و تفحص کا کام بھی کیا۔ علاوہ ازیں ذوق و شوق کے اشعار بھی جمع کئے اور تالیف کا حصہ بنائے۔ (۲۰)
کتاب ’’حیات محمد ا ‘‘ کے مؤلف محمد حسین ہیکل نے اپنی تالیف میں منہج تحقیق کو بیان کیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کتاب کی تدوین و تحقیق جدید مغربی نہج پر کی گئی۔ اس کام میں سیرت طیبہ کے متعلق تمام اسفار کتب کا مطالعہ کرنے کے بعد سیرت ابن ہشام، طبقات ابن سعد مغازی محمد الواقدی اور روح الاسلام سید امیر علی کو دوبارہ حرف با حرف پڑھا گیا۔ اس کے بعد مستشرقین کی دو کتابیں، در منگھم کی سیرت محمد اور ارفخ کا مطالعہ کیا گیا، بعد ازاں قرآن مجید کو سیرت کا اساسی مصدر قرار دے کر آیات کا استخراج کیا پھر سیرت طیبہ مدون کرنے کے لئے احادیث و سیر کی کتابوں سے استشہاد کیا گیا۔ قرآن مجید کی ہر اس آیت پر جو سیرت طیبہ سے متعلق تھی شان و اوقات نزول اور مناسبت تلاش کی گئی جس کے لئے صرف دو کتابیں ہی مفید ثابت ہوئیں ایک واحدی کی کتاب ’’اسباب النزول‘‘ دوسری ابن سلامہ کی کتاب ’’الناسخ و المنسوخ‘‘، اس کے علاوہ جامعہ ازہر کے اکابر کی رہنمائی حاصل ہوئی۔ دار الکتب المصریہ کی لائبریری سے استفادہ کیا گیا۔ اہم مصادر میں ’’فجر الاسلام‘‘ استاد محمد، ’’قصص الانبیاء‘‘ استاد عبد الوہاب النجار، ’’الادب الجاہلی‘‘، ڈاکٹر طہ حسین اور ’’الیہود فی البلاد العرب‘‘، اسرائیل و تفنسن سے استفادہ کیا گیا۔ مستشرقین کی بعض وقیع کتابیں خصوصاً کوسان اور پر سفال کی کتاب ’’رسالہ تاریخ عرب سے متعلق‘‘ سے بھی استفادہ کیا گیا، اس تالیف میں بشمول دوسرے مسائل کے روایات کو علمی تحقیق کے ساتھ منکشف کیا گیا ہے۔ (۲۱)
کتاب سیرت النبی ا کے مؤلف مولانا شبلی نعمانی نے درج ذیل منہج تحقیق بیان کیا ہے۔ سیرت کے واقعات کے متعلق جو کچھ قرآن مجید میں مذکور ہے اُن کو سب پر مقدم رکھا ہے۔ احادیث صحیحہ کے مقابلے میں سیرت کی روایتوں کو نظر انداز کردیا گیا ہے، جو واقعات بخاری و مسلم وغیرہ میں مذکور ہیں ان کے مقابلے میں سیرت یا تاریخ کی روایت کو چھوڑ دیا ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ کتب حدیث میں ہر قسم کے نہایت تفصیلی واقعات ضمنی موقعوں پر روایت میں آجاتے ہیں اس لئے اگر عام استقرا اور تفحص سے کام لیا جائے تو تمام اہم واقعات میں خود صحاح ستہ کی روایتیں مل جاتی ہیں، کتاب میں اکثر تفصیلی واقعات حدیث ہی کی کتابوں سے ڈھونڈ کر مہیا کئے گئے ہیں جو اہل سیر کی نظر سے بالکل اوجھل رہ گئے تھے، اہم واقعات کے متعلق تنقید اور تحقیق سے کام لیا ہے۔ اس خاص ضرورت کے لئے پہلے ابن ہشام ابن سعد اور طبری کے تمام رواۃ کے نام الگ انتخاب کرلئے گئے جن کی تعداد سیکڑوں سے متجاوز ہے پھر اسماء الرجال کی کتابوں سے ان کی جرح و تعدیل کا نقشہ تیار کیا تاکہ جس سلسلۂ روایت کی تحقیق مقصود ہو بآسانی ہو جائے۔ فروگذاشتوں کی حتی الامکان اصلاح اور تلافی کی گئی ہے۔ صرف ان کتابوں کا حوالہ دیا گیا ہے جو مؤلف کی نظر سے گزری ہیں، جو واقعات کسی قدر اہم ہیں اُن کے متعلق صحیح حدیثوں یا مستند تاریخی روایتوں کا حوالہ دیا ہے، لیکن عام واقعات یا عزوات کے متعلق جزئیات کی تفصیل میں محدثانہ کدو کاوش نہیں کی گئی ہے۔ کتابیات کی فہرست دی گئی ہے۔ (۲۲)
کتاب سیرت المصطفیٰ کے مؤلف مولانا محمد ادریس کاندھلوی نے اپنی مختصر تصنیف میں یہ منہج اختیار کیا ہے، تمام مواد احادیث سے لیا گیا ہے، محدثین کے اصول و قواعد کا اتباع ضروری سمجھا ہے، غیر مستند اور غیر معتبر روایات سے پرہیز کیا گیا ہے، سیرت میں جہاں صحت مآخذ اور روایات کے معتبر ہونے کا التزام کیا ہے وہاں اسرار و حکم کا بھی کچھ اہتمام کیا ہے، کسی ڈاکٹر یا فلاسفر سے گھبرا کر نہ کسی روایت کو چھپایا گیا ہے اور نہ کسی حدیث میں ان کی خاطر سے کوئی تاویل کی گئی ہے اور نہ راویوں پر جرح کرکے اس حدیث کو غیر معتبر بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ (۲۳)
کتاب نبی رحمت کے مؤلف مولانا سید ابو الحسن ندوی اپنے منہج تحقیق کے بارے میں فرماتے ہیں کہ انہوں نے اس کتاب کی تالیف میں واقعات و حالات اور سیرت کے اصل و بنیادی مواد پر زیادہ اعتماد کیا ہے۔ اس کام کے لئے قرآن مجید، کتب حدیث، عربی اور انگریزی کی قدیم و جدید کتب سیرت خصوصاً ابن ہشام کی کتاب السیرۃ النبویہ اور امام ابن قیم کی کتاب زاد المعاد سے بھر پور استفادہ کیا ہے۔ کتاب میں صداقتوں اور زندہ حقیقتوں کو فلسفہ کا رنگ دینے، واقعات کی تاویل کرنے، اور اس کے لئے طویل و عریض مضمون باندھنے کی زیادہ کوشش نہیں کی ہے۔ (۲۴)
سید ابو الحسن علی ندوی سیرت نگاری کے منہج تحقیق کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ سیرت کے موضوع پر ایک طرف عصری اور علمی اسلوب میں لکھنا چاہئے اور اس میں قدیم و جدید دونوں مآخذ سے پورا استفادہ کیا گیا ہو، دوسری طرف سیرت کے اولین اور اصل مآخذ پر اس کی بنیاد ہو، اور قرآن و حدیث سے اس میں سر مو انحراف نہ کیا گیا ہو، وہ موسوعی (Encyclopaedic) طرز پر نہ لکھی گئی ہو۔ جس میں سارے معلومات بغیر کسی نقد و تمحیص کے بھر دیئے جاتے ہیں اور ہر طرح کا ضروری و غیر ضروری مواد پیش کردینا ضروری سمجھا جاتا ہے، یہ وہ طرز تصنیف اور اسلوبِ تحریر ہے جس کے دور آخر کے اکثر مصنفین اور بعض متقدمین بھی عادی رہے ہیں، یہ طرز بہت سے ایسے غیر ضروری اشکالات و سوالات پیدا کرتا ہے جن سے سیرت نبوی ا بری و بے داغ ہے اور جس میں باد یہ پیمائی اور آشفتہ سری کی مسلمانوں کو کوئی ضرورت نہیں اس لئے تحقیق و تنقیح کا قلم (تجدد پسندانہ رحجانات اور مستشرقین کی تشکیل کا کوئی اثر قبول کئے بغیر) اپنا کام کر چکا ہے۔ اس کے ساتھ وہ ان دینی مسلممات و حقائق کے ساتھ ہم آہنگ ہو جن کی روشنی و رہبری کے بغیر آسمانی کتابوں، انبیا کی سیرت، معجزات اور غیبی واقعات و حقائق کو صحیح طور پر سمجھنا مشکل ہے اور جو اس اصول پر کار بند ہو اور اس عقیدہ کا حامل ہو کہ یہ ایک نبی کی سیرت ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں مبعوث کیا گیا ہے۔ اور جس کو ہر دم و ہر لحظ خدا کی نصرت و تائید حاصل تھی نہ کہ کسی بڑے قومی لیڈر اور ملی رہنما کے حالات زندگی یہ وہ سیرت ہے جو ہر منصف مزاج، تعلیم یافتہ شخص (خواہ مسلم ہو یا غیر مسلم) کے سامنے کسی تحفظ (Reservation) استناء اور کسی تاویل کا سہارا لئے بغیر پیش کی جاسکے۔
سیرت نگاری کے دوران بہت سے واقعات اور فیصلے جو حدیث و سیرت کے مطالعے میں آدمی کی نظر سے گذرتے ہیں اُس وقت تک سمجھے ہی نہیں جاسکتے جب تک مدینہ کی اجتماعی، اقتصادی اور سیاسی حالت، وہاں کی زمین کی خاصیت، اس کے جغرافیہ، اس کے گرد و نواح، وہاں کی انفرادی اور علاقائی طاقتوں، ان کے باہمی تعلقات و روابط، معاہدوں اور عہد ناموں اور ہجرت سے قبل کے معاملات اور قومی و ملکی دستور اور رسوم و رواج کا سیرت نگار کو علم نہ ہو، اس زمانے کے سیرت نگار کے لئے یہ ضروری ہوگا کہ وہ اپنے کام میں ان تمام معلومات سے پوری مدد لے اور تاریخ و جغرافیہ اور تقابلی مطالعہ (Comparative Studies) کے میدان میں جو جدید ترین مباحث و معلومات اب تک سامنے آئے ہیں ان سے پورا پورا فائدہ اٹھائے۔ (۲۵)
حوالہ جات
۱ ۔ سورئہ حجرات ، آیت ۶ ۲۔ علامہ شبلی نعمانی/ سیرت النبی ا/ ص ۳۹
۳۔ ایضاً/ ص ۴۵۔ ۴۶
۴۔ حکیم عبد الرئوف دانا پوری/ اصح السیر/ ص ۲۰/ مجلس نشریات اسلامی، کراچی، ۱۹۸۲ء
۵۔ سورئہ نور، آیت ۱۱ ۶۔ سورئہ نور، آیت ۱۶
۷۔ علامہ شبلی نعمانی/ سیرت النبی ا/ ص ۴۲، ۴۳
۸۔ ایضاً/ ص ۵۰۔ ۶۸ ۹۔ ایضاً/ ص ۶۸۔ ۷۴
۱۰۔ ایضاً/ ص ۸۳
۱۱۔ سرسید احمد خان/ الخطبات الاحمدیہ/ ص ۲۴ ۱۲۔ ایضاً/ ص ۲۵
۱۳۔ محمد حسین ہیکل/ حیات محمد ا/ ص ۲۰
۱۴۔ ایضاً/ ص ۲۰ ۱۵۔ ایضاً/ ص ۵۲
۱۶۔ ایضاً/ ص ۵۳۔ ۵۴۔ ۵۶
۱۷۔ سید ابو الحسن ندوی/ نبی رحمت/ ص ۱۴
۱۸۔ محمد بن سعد/ طبقات ابن سعد/ مترجم علامہ عبد اللہ العمادی/ پیش لفظ مولانا عبد القدوس ہاشمی/ ص ۹، ۱۰/ نفیس اکیڈمی کراچی
۱۹۔ شیخ جلال الدین سیوطی/ الخصائص الکبری/ ص ۵۳
۲۰۔ ملا معین واعظ الہروی/ معارج النبوۃ فی مدارج الفیوۃ/ ص ۵۹، ۶۲/ مکتبۂ نبویہ گنج بخش روڈ، لاہور، ۱۹۸۷ء
۲۱۔ محمد حسین ہیکل/ حیات محمد ا/ ص ۲۳ ۲۲۔ علامہ شبلی نعمانی/ سیرت النبی ا/ص ۹۸تا ۱۰۱
۲۳۔ مولانا محمد ادریس کاندھلوی/ سیرت المصطفیٰ ا/ ص ۸/ مکتبہ عثمانیہ اقبال ٹائون، لاہور، ۱۹۹۲ء
۲۴۔ سید ابو الحسن ندوی/ نبی ٔ رحمت ا/پیش لفظ
۲۵۔ ایضاً/ ص ۱۰۔ ۱۱۔ ۱۵۔ ۱۶
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں